9 اشعار

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

Yun to jo chahe yahan sahib-e-mehfil ho jaye

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

«یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائےبزم اس شخص کی ہے تو جسے حاصل ہو جائے

ناخدا اے مری کشتی کے چلانے والےلطف تو جب ہے کہ ہر موج ہی ساحل ہو جائے

اس لیے چل کے ہر اک گام پہ رک جاتا ہوںتا نہ بے کیف غم دورئ منزل ہو جائے

تجھ کو اپنی ہی قسم یہ تو بتا دے مجھ کوکیا یہ ممکن ہے کبھی تو مجھے حاصل ہو جائے

ہائے اس وقت دل زار کا عالم کیا ہوگر محبت ہی محبت کے مقابل ہو جائے

پھیکا پھیکا ہے مری بزم محبت کا چراغتم جو آ جاؤ تو کچھ رونق محفل ہو جائے

تیری نظریں جو ذرا مجھ پہ کرم فرمائیںتیری نظروں کی قسم پھر یہی دل دل ہو جائے

ہوش اس کے ہیں یہ جام اس کا ہے تو ہے اس کامے کدے میں ترے جو شخص بھی غافل ہو جائے

فتنہ گر شوق سے بہزادؔ کو کر دے پامالاس سے تسکین دلی گر تجھے حاصل ہو جائے

— بہزاد لکھنوی