5 اشعار

اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے

Is intezaar mein hai asman charagh jale

اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے

«اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلےغبار ظلم چھٹے بارھواں چراغ جلے

یہ منکرین چراغ و ضیا بھی جانتے ہیںکہاں پہ تیرگی اتری کہاں چراغ جلے

کہا حسین نے تاریکی بڑھتی جاتی ہےسو اب سنا علی اکبر اذاں٫چراغ جلے!!!

بوقت شام چلی تھی نجات کی کشتنیسخی نے کھول دیے بادباں چراغ جلے

زمین کرب و بلا پہ اندھیرے چھپتے پھرےمیرے حسین کے جب نوجواں چراغ جلے

— دانش نقوی