5 اشعار

جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں

Jahan se tujh ko rawana kiya tha, kehte hain

جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں

«جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیںوہاں پہ بارشیں ہوں تو دیے نکلتے ہیں

بتا وہ لوگ بھلا کیسے توڑ دیں گے تجھےجو تجھ کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں

ذرا سے وقت میں رشتے نہیں بنا کرتےیہ کاروبار بڑی محنتوں سے چلتے ہیں

کسی بھی رت کو نہیں دیکھا ہم نے جی بھر کےتمہارے شہر کے موسم بہت بدلتے ہیں

ذرا سی چاپ سے یکسوئی ٹوٹ جاتی ہےگلی سے لوگ گزرتے ہیں ہم تڑپتے ہیں

— دانش نقوی