6 اشعار

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

Bas isi baat se ghabraya hua lagta hun

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

«بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوںخود کو اندر سے کہیں ڈھایا ہوا لگتا ہوں

تم نہیں جانتے ہجرت کے تقاضے کیا ہیںگھر کا مالک ہوں مگر آیا ہوا لگتا ہوں

اس نے اک بار ہی تحریر کیا ہے مجھ کودیکھنے والوں کو دہرایا ہوا لگتا ہوں

تیرے قدموں کی طرف سیدھی جبیں ہوتی ہےجھک کے چلتے ہوئے اترایا ہوا لگتا ہوں

ہاں تو پھر مان کوئی ہاتھ میرے سر پر ہےیا بتا اب تجھے گھبرایا ہوا لگتا ہوں

اثر ہوتا ہی نہیں اس سے زیادہ مجھ پرچار چھ روز ہی سمجھایا ہوا لگتا ہوں

— دانش نقوی