5 اشعار

کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے

Kisi ko apni, kisi ko apni, kisi ko apni padi hui hai

کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے

«کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہےہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہے

ہم اپنے بارے میں سب سوالات اور لوگوں سے پوچھتے ہیںہمارے ہاتھوں سے زندگی کی کتاب اونچی پڑی ہوئی ہے

وہ غیر لوگوں کی غیر دھرتی پہ پاؤں کے نقش گاڑھتا ہےادھر ہمارے "چناب" کی ریت اب بھی سونی پڑی ہوئی ہے

بہت پریشاں ہوں اتنی عجلت میں ٹھیک چہرہ نہیں بنے گامیں خود کو ترتیب دے رہا ہوں اور اس کو جلدی پڑی ہوئی ہے

یہ اس کی مرضی ہے جس کو دیکھے مگر مساوات سے تو دیکھےکسی کی رنگت دہک رہی ہے کسی کی پھیکی پڑی ہوئی ہے

— دانش نقوی