6 اشعار

بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیں

Be-ghari saath hi hoti hai jidhar jaate hain

بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیں

«بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیںیعنی ہم گھر سے بھی چلتے ہیں تو گھر جاتے ہیں

تم بھی رستے سے کہیں لوٹ کے مت آجانااس جگہ لوگ صدا دے کے مکر جاتے ہیں

یہ میرا حوصلہ ہے مر کے بھی زندہ ہوں ابھیورنہ کچھ لوگ تو جیتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہائے وہ لوگ سہولت ہے جنہیں چھونے کیہم تیرا نام بھی لیتے ہوئے ڈر جاتے ہیں

یار تو میرے لیے کتنا لڑے گا سب سےمیں تو کہتا ہوں محبت سے مکر جاتے ہیں

یہ جو میں رک کے تجھے دیکھتا ہوں،چلتا ہوںجن کو جانا ہو وہ چپ چاپ گزر جاتے ہیں

— دانش نقوی