5 اشعار

میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے

Mai ek raat hua is qadar khafa khud se

میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے

«میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سےپلٹ کے بھی نہیں دیکھا چلا گیا خود سے

بس التجائیہ نظروں سے دیکھ لیتا ہوںمیں آج تک کبھی سینے نہیں لگا خود سے

فصیل جسم پہ اٹکا ہوا تھا میں کل شبکسی نے ہاتھ لگایا تو گر پڑا خود سے

کسی کے کہنے پہ شاید یہ کائنات بنییہ کام لگتا نہیں ہے کیا ہوا خود سے

جلانے پڑتے ہیں پہلے سبھی گھروں میں چراغہمارے شہر میں چلتی نہیں ہوا خود سے

— دانش نقوی