6 اشعار

اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا

Isi baat ka mere dil se dar nahin ja raha

اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا

«اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہاکوئی شخص بھی مجھے چھوڑ کر نہیں جا رہا

میرے جسم پر کئی نیلے نیلے نشان ہیںتیرا زہر اتنا بھی بے اثر نہیں جا رہا

تونے کس کے کہنے پہ تیغ مجھ پہ اٹھائی ہےکوئی زخم بھی تیرے وار پر نہیں جا رہا

تیرے شہر سے میں نکل تو گھر کو پڑا مگرمجھے یوں لگا کہ میں اپنے گھر نہیں جا رہا

مجھے زخم کیوں نہیں لگ رہا کسی جنگ میںکوئی تیر سینے میں کیوں اتر نہیں جا رہا

میرا دل تو اب بھی تری شراب کے حق میں ہےمگر اس طرف مرا اب جگر نہیں جا رہا

— دانش نقوی