5 اشعار

میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے

Mai har kisi ko yehi batata hun yaar achi guzar rahi hai

میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے

«میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہےمگر کبھی تم بھی پوچھ لیتے سناو کیسی گزر رہی یے

وہ میرے کاندھے پہ سر ٹکائے نہ جانے کن فیصلوں میں گم ہےندی میں گہرا سکوت ہے اور ایک کشتی گزر رہی ہے

اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے مجھے مسائل کا سامنا ہےاگرچہ ہم دونوں پر یہ آفت تو ایک جیسی گزر رہی ہے

یہ ہم کو بزدل سمجھنے والے ہماری مشکل نہیں سمجھتےنئے مسافر ہیں اور صحرا سے تیز آندھی گزر رہی ہے

میں ان دنوں اپنے حصے کے کام پوری محنت سے کر رہا ہوںمگر سبھی کی نظر سے میری پرانی غلطی گزر رہی ہے

— دانش نقوی