5 اشعار

مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھو

Mukh Ujala Aankhen Matwali Mere Yaar Ke Lab Yaqooti Ho

مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھو

«مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھو» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھوگرے تال پہ سرگم زلفوں کے قد اونچا چال اچھوتی ھو

دل چین پڑے جی رقص کرے من میل جلے تن موج کرےمیری روح سے جسم کا بوجھ ہٹے ذرا ہاتھ لگا ملکوتی ھو

تیرا جسم ہے دیوتا جسموں کا میرے ہاتھ پجاریوں والے ہیںتیرا دامن پاک دو عالم سے٬ میرے دل میں بے کرتوتی ھو

تیری دو آنکھوں میں پنہاں ہیں انمول خزانے وحدت کےتیرے سامنے دنیا کیا شئے ہے تیری اس سے قیمتی جوتی ھو

میری سانسیں کھینچ لے سانسوں سے میری دھڑکن روک دے ہاتھوں سےمجھے اپنے جسم میں ضم کر لے ذرا پاس تو آ لاہوتی ھو

— دانش نقوی