6 اشعار

نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیا

Nazar to aaya magar jaa-ba-ja nahin aaya

نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیا

«نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیازمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا

بہاو لایا ہے اس کو کنارے کی جانبوہ شخص میری طرف تیرتا نہیں آیا

اک اور بار بچھڑ کر نہ دیکھ لیں دونوں؟یہ زخم اب بھی ہمیں ایک سا نہیں آیا

ہزار کوششیں کر لیں زمانے بھر نے مگرمیری نظر سے اسے دیکھنا نہیں آیا

ہمارا حق ہی نہیں ہے کہ اب دہائی دیںگئے ہووں کو اگر روکنا نہیں آیا

برابری کا تصور نہیں ہماری طرفہمارے جیسا کوئی دوسرا نہیں آیا

— دانش نقوی