6 اشعار

شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہے

Sheher mein charon taraf ek sadak jaati hai

شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہے

«شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہےمیں بھٹکتا ہوں میرے ساتھ بھٹک جاتی ہے

جس الاؤ سے مجھے تم نے گزارا، مجھ پرہاتھ رکھو تو میری مٹی کھنک جاتی ہے

اتنا مانوس ہوں خود جا کے پکڑ لاتا ہوںگھر کی ویرانی اگر راہ بھٹک جاتی ہے

اس کا مطلب ہے ابھی زندہ ہے پتھرائی نہیںہنسنے لگتا ہوں اگر آنکھ چھلک جاتی ہے

اب تسلسل سے میں خاموش نہیں رہ سکتابات کرلیتا ہوں خاموشی اٹک جاتی ہے

شور کرتے ہیں کسی یاد کے پنچھی مجھ میںاور پھر بعد میں تنہائی بھڑک جاتی ہے

— دانش نقوی