6 اشعار

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

Tujh ko lagta hai ke logon ki tarah sochta hun

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

«تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوںمیں تیرے بارے فرشتوں کی طرح سوچتا ہوں

جی میں آتا ہے لپٹ جاوں در و بام کے ساتھگھر پہنچتا ہوں تو بچوں کی طرح سوچتا ہوں

میرے سینے میں امانت ہے کسی روشنی کیشام کے وقت چراغوں کی طرح سوچتا ہے

تیری مرضی ہے مجھے جیسا سمجھ لے لیکنمیں تیرے بارے درختوں کی طرح سوچتا ہوں

اک یہی بات تو اچھی ہے میرے سوچنے میںآپ ویسا نہیں جیسوں کی طرح سوچتا ہوں

ٹھوکریں کھائی، گرا، سر لگا دیواروں میںمیں اسے آج بھی اندھوں کیطرح سوچتا ہوں

— دانش نقوی