5 اشعار

باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے

Baandh li jaati kamar kaat diye jaate the

باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے

«باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھےسبز ہوتے ہی شجر کاٹ دیے جاتے تھے

اب کہیں جا کے نظر آیا ہے گاوں میراپہلے نقشے سے یہ گھر کاٹ دیے جاتے تھے

عمر ہی کاٹی ہے تم نے یہ بڑا کام نہیںاسکے کہنے پہ تو سر کاٹ دیے جاتے تھے

دستکیں دیتے ہوئے لوگوں کو معلوم کہاںپہلی دستک پہ ہی در کاٹ دیے جاتے تھے

موسموں سوچتے رہتے تھے فضا کے بارےاڑنا آتا تھا تو پر کاٹ دیے جاتے تھے

— دانش نقوی