5 اشعار

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

Woh jaan boojh ke mujh ko udaas rakhta hai

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

«وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہےوگرنہ اس کا اداسی پہ بس تو چلتا ہے

اسے یقین ہی اتنا ہے میرے سینے پرکسی کا رونا ہو میرے گلے سے لگتا ہے

تمہارا سب سے برا خواب بھی نہیں ویساہمارے ساتھ حقیقت میں جیسے ہوتا ہے

جو لوگ خوش ہیں محبت میں ان سےپوچھوں گایہ کاروبار سہولت سے کیسےچلتا ہے

میں اس کے ہاتھ کو چوموں گا پھر بتاوں گاکہ اس کا جسم دہکتا ہے یا مہکتا ہے

— دانش نقوی