6 اشعار

یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں

Yeh sirf hum hi samajhte hain jaise utre hain

یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں

«یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیںسوار ساتھ ہوئے تھے اکیلے اترے ہیں

میں اس بلندی سے گرنا ہی سوچ سکتا ہوںاترنے والے بتائیں کہ کیسے اترے ہیں

لگا یہی تھا کہ اب حبس میں ہی گزرے گیتمہارے بعد بھی موسم تو اچھے اترے ہیں

وہ میرے سامنے آ بیٹھا سیڑھیاں چڑھ کرپھر اس کے بعد جو لوگوں کے چہرے اترے ہیں

کوئی گلہ نہیں امید بھی یہی تھی مجھےیہ لوگ میری توقع پہ پورے اترے ہیں

ہوا کے زور سے گرتے درخت اپنی جگہمگر وہ پھل جو درختوں سے کچے اترے ہیں

— دانش نقوی