5 اشعار

رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے

Rakhte hain, magar itna zyada nahin rakhte

رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے

«رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتےاس دور میں احساس کا مادہ نہیں رکھتے!!

اک بار جو آجائیں تیرے پاس سے ہوکرپھر وہ تو کہیں کا بھی ارادہ نہیں رکھتے

ہم لوگ انا باز بھی ہوتے ہیں غضب کےمانگیں بھی تو دامن کو کشادہ نہیں رکھتے

تم توڑ بھی دو پھر بھی کوئی بات نہیں ہےہم دل میں کسی شخص کا وعدہ نہیں رکھتے

کرلیتے ہو اس میں بھی کسی شئے کی ملاوٹتم لوگ محبت کو بھی سادہ نہیں رکھتے

— دانش نقوی