18 اشعار

اپنے بے نور چراغوں کو ضیا دی جائے

Apne be noor charaghon ko ziya di jae

اپنے بے نور چراغوں کو ضیا دی جائے

«اپنے بے نور چراغوں کو ضیا دی جائے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

اپنے بے نور چراغوں کو ضیا دی جائےنہ کہ ہمسائے کی قندیل بجھا دی جائے

صبح کاذب ہے کوئی مل کے صدا دی جائےیہ سیہ دھوپ کی دیوار گرا دی جائے

نغمہ و نے سے ابھاریں کوئی تصویر جنوںجس میں شعلوں کی لپک ہو وہ صدا دی جائے

راز غم مجلس احباب کی تفریح نہیںآئنہ خانے میں کیوں شمع جلا دی جائے

راستے قافلے والوں کی نظر میں ہیں تمامدھول سے لاکھ بگولوں کو ہوا دی جائے

شکریہ تو مری فطرت ہے مگر سائے تو ہوںدشت سے دھوپ کی جاجم تو اٹھا دی جائے

جس کا مدت سے ہے شیشے کے مکانوں میں رواجہم پہ اس عشق کی تہمت نہ لگا دی جائے

یوں بھی ہوتا ہے کہیں جور بہاراں کا علاجپھول کی شکل بھی کانٹے سے ملا دی جائے

جن کے اشعار سے ہو گرم جوانوں کا لہوکیوں مسلسل انہیں فاقوں کی سزا دی جائے

دار و زنداں کا تو اک شور بپا ہے لیکنکوئی جینے کی تو تدبیر بتا دی جائے

ہر افق سے مری آواز پلٹ آتی ہےکس دریچے سے انہیں جا کے صدا دی جائے

ایک افسانہ ہے ہاتھوں سے گریبانوں تکبات بہروں کو سنا کر نہ گنوا دی جائے

اک مصور نے جو سونپی تھی امانت کی طرحبعض کہتے ہیں وہ تصویر مٹا دی جائے

جن کو بے وقت مراعات نے بخشا ہے جنوںان پہ کچھ قید شرافت بھی لگا دی جائے

انقلابات ہیں خود اپنے اصولوں کا جوازاب کے آئین میں یہ شق بھی بڑھا دی جائے

جس کی تہذیب مسلماں سے سنبھالی نہ گئیپھر اسی کوئے تجلی میں صدا دی جائے

قبر کے چوکھٹے خالی ہیں انہیں مت بھولوجانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے

فرض ہے اس پہ محمد کی غلامی دانشؔجس کی تحویل میں مخلوق خدا دی جائے

— احسان دانش