7 اشعار

بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھا

Bahar aayi hai phir jhoom kar sahab utha

بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھا

«بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھا

جواز مے کا مخالف اگر ہے اے واعظکہاں لکھا ہے دکھا لا اٹھا کتاب اٹھا

فضا میں کھول دئے ہیں گھٹاؤں نے گیسونہیں ہے جام نہ ہو شیشۂ شراب اٹھا

ہر ایک پھول میں رقصاں ہے کائنات جمالبہار آئی کہ ہے اک محشر شباب اٹھا

کہاں کے دیر و حرم جستجوئے جلوہ گریہی نقاب ہے آنکھوں سے یہ نقاب اٹھا

نسیم صبح سے شاخیں ملیں تو میں سمجھاکہ حسن عالم طفلی میں نیم خواب اٹھا

لباس ماہ میں احسانؔ دیکھ کون آیانگاہ سوئے فلک خانماں خراب اٹھا

— احسان دانش