7 اشعار

موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو

Mausam se rang-o-boo hain khafa dekhte chalo

موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو

«موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلویہ کیا چلی چمن میں ہوا دیکھتے چلو

انبار ہر طرف ہیں اندھیروں کے یہ درستشاید نہیں ہو آب بقا دیکھتے چلو

تسکین سنبل و گل و لالہ کے واسطےکیا دے رہی ہے باد صبا دیکھتے چلو

جتنے تھے جاں نثار چمن بعد صبح نوکچھ اجر بھی کسی کو ملا دیکھتے چلو

اصنام زر کے پاؤں میں ڈالے ہوئے جبیںکتنے ہیں بندگان خدا دیکھتے چلو

کس کس کا اعتماد وفا ہو گیا شکستکس کس کو حسن سے ہے گلا دیکھتے چلو

دانشؔ کو ضد ہے دیر و حرم بھی سہی مگرکس کو ملا ہے ان کا پتا دیکھتے چلو

— احسان دانش