9 اشعار

نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا

Na jane sehar yeh kya tu ne chashm-e-yaar kiya

نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا

«نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیاکہ میں نے ہوش کے جامے کو تار تار کیا

فسوں عجیب یہ اے موسم بہار کیاکہ خار زار کو ہم رنگ لالہ زار کیا

مہک رہا ہے ہر اک گل کا جامۂ رنگیںصبا نے باغ میں کیا ذکر زلف یار کیا

نہ پوچھو پچھلے پہر اپنی یاد کا عالمتمہارا ذکر ستاروں سے بار بار کیا

نسیم صبح نے آ کر وہ راگنی چھیڑیہر ایک پھول نے کانٹے کو جھک کے پیار کیا

مرے جہان‌ محبت میں پڑ گئی ہلچلسکون دل نے مجھے اور بے قرار کیا

بھر آئے دیدۂ انجم میں اشک مجبوریجگر کو تھام کے جب ہم نے ذکر یار کیا

تڑپ کے آبلہ پا ایک بار پھر اٹھےیہ کسی نے تذکرۂ آمد بہار کیا

گزر چکی ہیں جو احسانؔ ان کی محفل میںانہیں قرار کی گھڑیوں نے بیقرار کیا

— احسان دانش