9 اشعار

عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا

Ishq har chand masaib se pareshan na hua

عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا

«عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوانہ ہوا حسن مگر تابع فرماں نہ ہوا

لاکھ دنیا نے یہ چاہا کہ پریشاں ہو مگرمیں ترے غم کی حفاظت میں پریشاں نہ ہوا

دل کی آواز ہو محروم اثر کیا معنیعشق کافر ہے اگر حسن مسلماں نہ ہوا

درپئے عقدۂ ہستی ہے ازل ہی سے بشرلیکن اک خاک کے ذرے کا بھی عرفاں نہ ہوا

دل میں ہر خون کا قطرہ ہے تلاطم بکنارجو مگر آنکھ سے ٹپکا وہی طوفاں نہ ہوا

تو وہ آزاد کہ بے وجہ ہے مجھ سے بھی گریزمیں وہ مجبور کہ دشمن سے بھی نالاں نہ ہوا

اپنی پیغام نوائی کے نتائج میں مجھےفکر زنداں تو رہا ہے غم زنداں نہ ہوا

جس کے مشرب میں محبت ہو محبت کا جوابمیری تقدیر میں ایسا کوئی انساں نہ ہوا

ایک ہی جلوے سے احسانؔ نظر ہٹ نہ سکیمجھ سے کچھ اس کے سوا کار نمایاں نہ ہوا

— احسان دانش