6 اشعار

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

Aag ho to jalne mein der kitni lagti hai

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

«آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے عروج فیاض نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہےبرف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

چاہے کوئی رک جائے، چاہے کوئی رہ جائےقافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

چاہے کوئی جیسا بھی ہم سفر ہوصدیوں سےراستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

یہ تو وقت کے بس میں ہے کہ کتنی مہلت دےورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

موم کا بدن لے کر دھوپ میں نکل آنااور پھر پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

سوچ کی زمینوں پر راستے جُدا ہوں تودُور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں