5 اشعار

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے

Jo us ke chehre pe rang-e-haya thhehar jaaye

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے

«جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائےتو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے

وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسموہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے

سبک خرام صبا چال چل پڑے جب بھیہزار پھول سر راہ آ ٹھہر جائے

وہ ہونٹ ہونٹوں پہ رکھ دے اگر دم آخرمجھے گماں ہے کہ آئی قضا ٹھہر جائے

میں اس کی آنکھوں میں جھانکوں تو جیسے جم جاؤںوہ آنکھ جھپکے تو چاہوں ذرا ٹھہر جائے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں