20 اشعار

محبت ذات ہوتی ہے۔۔

Mohabbat zaat hoti hai..!!

محبت ذات ہوتی ہے۔۔

«محبت ذات ہوتی ہے۔۔» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

محبت ذات ہوتی ہے۔۔!!محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے۔۔!!

کوئی جنگل میں جا ٹھہرے،کسی بستی میں بس جائے،

محبت ساتھ ہوتی ہے۔۔!!محبت خوشبوؤں کی لے،

محبت موسموں کی دُھن۔۔محبت آبشاروں کے،

نکھرتے پانیوں کا من۔۔محبت جنگلوں میں رقص کرتی،

مورنی کا تن۔۔محبت چلچلاتے ، گرم صحراؤں میں،

ٹھنڈے چھاؤں کی مانند۔۔محبت برف پڑتی سردیوں میں ،

دھوپ بنتی ہے۔۔!!محبت دل۔۔۔۔۔۔محبت جان۔۔۔

محبت روح کا درمان۔۔محبت مورتی ہے۔۔

اور کبھی،دل کے مندر میں

کہیں پر ٹوٹ جائے تو۔۔محبت کانچ کی گڑیا

اور فضاؤں میں کسی کے ہاتھ سےگر چھوٹ جائے تو۔۔

محبت آبلا ہے کرب کا۔۔اور پھوٹ جائے تو،

محبت روگ ہوتی ہے۔۔محبت سوگ ہوتی ہے۔۔

محبت شام ہوتی ہے۔۔محبت رات ہوتی ہے۔۔

محبت جھلملاتی آنکھ میںبرسات ہوتی ہے۔۔

محبت نیند کی رُت میںحسیں خواب کے رستے پر،

سلگتے، جان کو آتےرتجگوں کی گھات ہوتی ہے۔۔

محبت جیت ہوتی ہے،محبت مات ہوتی ہے۔۔

محبت۔۔۔۔ذات ہوتی ہے۔۔!!!!!

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں