5 اشعار

اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا

Udaas shaamen, ujaad raste kabhi bulayen to laut aana

اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا

«اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آناکسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا

ابھی نئی وادیوں ، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاںیہ سارے اک ایک کرکے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا

نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیںتمہارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا

اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمہارے ساتھیاور اپنی خاطر ھی اپنے اپنے دئیے جلائیں تو لوٹ انا

مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ھنستا تھا کھلکھلا کربچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں