6 اشعار

حق مہر کتنا ہوگا بتایا نہیں گیا

Haq mehr kitna hoga bataya nahin gaya

حق مہر کتنا ہوگا بتایا نہیں گیاشہزادیوں کو بام پہ لایا نہیں گیا

کمزور سی حدیث سنا دی گئی کوئیانصاف کا ترازو اٹھایا نہیں گیا

میں اپنے ساتھ ساتھ ہوں وہ اپنے ساتھ ساتھہم زاد آپ ہم کو بنایا نہیں گیا

پیالے میں پیاس اور دریچے میں چاند تھاوہ سو رہا تھا مجھ سے جگایا نہیں گیا

اک خواب دیکھنے میں ہی ہم صرف ہو گئےانگار زندگی کا جلایا نہیں گیا

ہر بار چھوڑ آتی ہوں دریا میں لہر کوچلو میں بھر کے مجھ سے اٹھایا نہیں گیا

— فرحت زاہد