6 اشعار

جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی

Jazbon ki har ek kali andhi nikli

جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلیاور محبت اس سے بھی پگلی نکلی

میں بھی توڑ نہیں پائی جھوٹی رسمیںمیں بھی بس اک معمولی لڑکی نکلی

تم مجھ سے نفرت کیسے کر پاؤ گےمیں تو اپنے جھوٹ میں بھی سچی نکلی

وہ گھر جو اجلا اجلا سا لگتا تھاجھاڑا پونچھا تو کتنی مٹی نکلی

سوچا تھا اس سے ہر بات چھپاؤں گیمیں بھی وعدوں کی کتنی کچی نکلی

جو اپنے ہاتھوں سے پھاڑ کے پھینکی تھیدل میں اک تصویر وہی رکھی نکلی

— فرحت زاہد