5 اشعار

اٹھے ہاتھ دعاؤں والے بھر دے مولا

Uthe haath duaon wale bhar de Maula

اٹھے ہاتھ دعاؤں والے بھر دے مولامیرے شہر کا موسم اچھا کر دے مولا

دھیان سرا میں جانے کب سے بہک رہی ہیںان چڑیوں کو اپنے بال و پر دے مولا

خواب نگر سے اپنی فصلیں کاٹیں یہ بھیاہل چمن کو اچھی کوئی خبر دے مولا

ان گلیوں میں مایوسی لہریں لیتی ہےان گلیوں کو اب تو نئی سحر دے مولا

تھکا ہوا جب کوئی مسافر لوٹ کے آئےجیسا چھوڑ گیا تھا ویسا گھر دے مولا

— فرحت زاہد