6 اشعار

سونے ہمیں کب دیتی ہے آواز کسی کی

Sone hamein kab deti hai aawaz kisi ki

سونے ہمیں کب دیتی ہے آواز کسی کیخوابوں میں بھی در آئی ہے آواز کسی کی

جب دور جزیروں پہ کوئی جا بسے اپنالہروں پہ سفر کرتی ہے آواز کسی کی

اٹھتے ہیں قدم جب بھی کسی دشت کی جانبقدموں کو جکڑ لیتی ہے آواز کسی کی

یہ لوگ تماشائی ہیں بس گیت سنیں گےکیا ان کو جو بھر آئی ہے آواز کسی کی

آنکھوں میں پلٹ آتی ہے تصویر پرائیمیرے لیے بینائی ہے آواز کسی کی

صدیوں سے یہاں بیٹھے ہیں ہم گوش بر آوازاب تک تو نہیں آئی ہے آواز کسی کی

— فرحت زاہد