6 اشعار

لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے

Lakh rahe shahron mein phir bhi andar se dehati the

لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھےدل کے اچھے لوگ تھے لیکن تھوڑے سے جذباتی تھے

اب بھی اکثر خواب میں ان کے دھندلے چہرے آتے ہیںمیری گڑیا کی شادی میں جو ننھے باراتی تھے

اپنے گرد لکیریں کھینچیں اور پھر ان میں قید ہوئےاس دنیا میں کھیل تھے جتنے سارے ہی طبقاتی تھے

جھونپڑیوں میں رہنے والے ان کی فطرت جان گئےکبھی کبھی چڑھ آنے والے نالے جو برساتی تھے

جس بادل نے سکھ برسایا جس کی چھاؤں میں پریت ملیآنکھیں کھول کے دیکھا تو وہ سب موسم لمحاتی تھے

جن کو بڑا مانا تھا میں نے فرحتؔ وہ کیوں بھول گئےکچھ گوشے میرے جیون کے بالکل میرے ذاتی تھے

— فرحت زاہد