6 اشعار

من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے

Man mauji hai ek dagar mein rahta hai

من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہےدل کا دریا روز سفر میں رہتا ہے

ایک پتنگ اڑتی ہے میری سوچ میں روزڈور لیے وہ پس منظر میں رہتا ہے

کون لکیریں کھینچ رہا ہے آنگن میںکون ہے جو اس خالی گھر میں رہتا ہے

روز میں ان گلیوں کی خیر مناتی ہوںروز اک شعلہ خیز خبر میں رہتا ہے

کب تک میں گھر کے دروازے بند کروںخوف یہ کیسا بام و در میں رہتا ہے

چنتے تھے شہتوت کبھی ان رستوں میںاب پیپل کا پیڑ نظر میں رہتا ہے

— فرحت زاہد