14 اشعار

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ

Yeh narm narm hawa jhilmila rahe hain chiragh

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ

«یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ

دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئیکہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ

جھلکتی ہے کھنچی شمشیر میں نئی دنیاحیات و موت کے ملتے نہیں ہیں آج دماغ

حریف سینۂ مجروح و آتش غم عشقنہ گل کی چاک گریبانیاں نہ لالے کے داغ

وہ جن کے حال میں لو دے اٹھے غم فرداوہی ہیں انجمن زندگی کے چشم و چراغ

تمام شعلۂ گل ہے تمام موج بہارکہ تا حد نگہ شوق لہلہاتے ہیں باغ

نئی زمین نیا آسماں نئی دنیاسنا تو ہے کہ محبت کو ان دنوں ہے فراغ

جو تہمتیں نہ اٹھیں اک جہاں سے ان کے سمیتگناہ گار محبت نکل گئے بے داغ

جو چھپ کے تاروں کی آنکھوں سے پاؤں دھرتا ہےاسی کے نقش کف پا سے جل اٹھے ہیں چراغ

جہان راز ہوئی جا رہی ہے آنکھ تریکچھ اس طرح وہ دلوں کا لگا رہی ہے سراغ

زمانہ کود پڑا آگ میں یہی کہہ کرکہ خون چاٹ کے ہو جائے گی یہ آگ بھی باغ

نگاہیں مطلع نو پر ہیں ایک عالم کیکہ مل رہا ہے کسی پھوٹتی کرن کا سراغ

دلوں میں داغ محبت کا اب یہ عالم ہےکہ جیسے نیند میں ڈوبے ہوں پچھلی رات چراغ

فراقؔ بزم چراغاں ہے محفل رنداںسجے ہیں پگھلی ہوئی آگ سے چھلکتے ایاغ

— فراق گورکھپوری