13 اشعار

زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا

Zair o bam se saaz-e-khilqat ke jahan banta gaya

زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا

«زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیایہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا

داستان جور بے حد خون سے لکھتا رہاقطرہ قطرہ اشک غم کا بے کراں بنتا گیا

عشق تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیںاک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا

میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی توزیب عنوان حدیث دیگراں بنتا گیا

بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاںنام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا

ہم کو ہے معلوم سب روداد علم و فلسفہہاں ہر ایمان و یقیں وہم و گماں بنتا گیا

میں کتاب دل میں اپنا حال غم لکھتا رہاہر ورق اک باب تاریخ جہاں بنتا گیا

بس اسی کی ترجمانی ہے مرے اشعار میںجو سکوت راز رنگیں داستاں بنتا گیا

میں نے سونپا تھا تجھے اک کام ساری عمر میںوہ بگڑتا ہی گیا اے دل کہاں بنتا گیا

واردات دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہےہر حساب غم حساب دوستاں بنتا گیا

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباںجو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا

وقت کے ہاتھوں یہاں کیا کیا خزانے لٹ گئےایک تیرا غم کہ گنج شائیگاں بنتا گیا

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔقافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا

— فراق گورکھپوری