27 اشعار

زندگی درد کی کہانی ہے

Zindagi dard ki kahani hai

زندگی درد کی کہانی ہے

«زندگی درد کی کہانی ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

زندگی درد کی کہانی ہےچشم انجم میں بھی تو پانی ہے

بے نیازانہ سن لیا غم دلمہربانی ہے مہربانی ہے

وہ بھلا میری بات کیا مانےاس نے اپنی بھی بات مانی ہے

شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ سازیا ترا شعلۂ جوانی ہے

وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبوگاہ گل گاہ رات رانی ہے

بن کے معصوم سب کو تاڑ گئیآنکھ اس کی بڑی سیانی ہے

آپ بیتی کہو کہ جگ بیتیہر کہانی مری کہانی ہے

دونوں عالم ہیں جس کے زیر نگیںدل اسی غم کی راجدھانی ہے

ہم تو خوش ہیں تری جفا پر بھیبے سبب تیری سرگرانی ہے

سر بہ سر یہ فراز‌ مہر و قمرتیری اٹھتی ہوئی جوانی ہے

آج بھی سن رہے ہیں قصۂ عشقگو کہانی بہت پرانی ہے

ضبط کیجے تو دل ہے انگارااور اگر روئیے تو پانی ہے

ہے ٹھکانا یہ در ہی اس کا بھیدل بھی تیرا ہی آستانی ہے

ان سے ایسے میں جو نہ ہو جائےنو جوانی ہے نو جوانی ہے

دل مرا اور یہ غم دنیاکیا ترے غم کی پاسبانی ہے

گردش چشم ساقیٔ دوراںدور افلاک کی بھی پانی ہے

اے لب ناز کیا ہیں وہ اسرارخامشی جن کی ترجمانی ہے

مے کدوں کے بھی ہوش اڑنے لگےکیا تری آنکھ کی جوانی ہے

خودکشی پر ہے آج آمادہارے دنیا بڑی دوانی ہے

کوئی اظہار ناخوشی بھی نہیںبد گمانی سی بد گمانی ہے

مجھ سے کہتا تھا کل فرشتۂ عشقزندگی ہجر کی کہانی ہے

بحر ہستی بھی جس میں کھو جائےبوند میں بھی وہ بیکرانی ہے

مل گئے خاک میں ترے عشاقیہ بھی اک امر آسمانی ہے

زندگی انتظار ہے تیراہم نے اک بات آج جانی ہے

کیوں نہ ہو غم سے ہی قماش اس کاحسن تصویر شادمانی ہے

سونی دنیا میں اب تو میں ہوں اورماتم عشق آنجہانی ہے

کچھ نہ پوچھو فراقؔ عہد شبابرات ہے نیند ہے کہانی ہے

— فراق گورکھپوری