16 اشعار

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات

Yeh nikhaton ki narm ravi yeh hava yeh raat

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات

«یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ راتیاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات

مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشقاب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات

کچھ اور بھی تو ہو ان اشارات کے سوایہ سب تو اے نگاہ کرم بات بات بات

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میںایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

ہم اہل انتظار کے آہٹ پہ کان تھےٹھنڈی ہوا تھی غم تھا ترا ڈھل چلی تھی رات

یوں تو بچی بچی سی اٹھی وہ نگاہ نازدنیائے دل میں ہو ہی گئی کوئی واردات

جن کا سراغ پا نہ سکی غم کی روح بھیناداں ہوئے ہیں عشق میں ایسے بھی سانحات

ہر سعی و ہر عمل میں محبت کا ہاتھ ہےتعمیر زندگی کے سمجھ کچھ محرکات

اس جا تری نگاہ مجھے لے گئی جہاںلیتی ہو جیسے سانس یہ بے جان کائنات

کیا نیند آئے اس کو جسے جاگنا نہ آئےجو دن کو دن کرے وہ کرے رات کو بھی رات

دریا کے مد و جزر بھی پانی کے کھیل ہیںہستی ہی کے کرشمے ہیں کیا موت کیا حیات

اہل رضا میں شان بغاوت بھی ہو ذرااتنی بھی زندگی نہ ہو پابند رسمیات

ہم اہل غم نے رنگ زمانہ بدل دیاکوشش تو کی سبھی نے مگر بن پڑے کی بات

پیدا کرے زمین نئی آسماں نیااتنا تو لے کوئی اثر دور کائنات

شاعر ہوں گہری نیند میں ہیں جو حقیقتیںچونکا رہے ہیں ان کو بھی میرے توہمات

مجھ کو تو غم نے فرصت غم بھی نہ دی فراقؔدے فرصت حیات نہ جیسے غم حیات

— فراق گورکھپوری