5 اشعار

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا

Bagair us ke ab aaram bhi nahin aata

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتاوہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئےوہ ماہ رخ جو لب بام بھی نہیں آتا

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکاممجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پرجدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا

چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہےاور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا

— غلام محمد قاصر