5 اشعار

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

Kashti bhi nahin badli darya bhi nahin badla

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلااور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلانظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا

ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نےمنزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا

بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کااس شہر میں تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا

بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کیخوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا

— غلام محمد قاصر