7 اشعار

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے

Ban mein veeran thi nazar shahr mein dil rota hai

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہےزندگی سے یہ مرا دوسرا سمجھوتا ہے

لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تکرت جگے کاشت نہ کر لے تو وہ کب سوتا ہے

جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریکمیرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے

نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والاآج پھر شبنمیں آنکھوں سے ورق دھوتا ہے

تیرے بخشے ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ ابجو بھی غم ہو مرے معیار سے کم ہوتا ہے

سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغایک سایہ پس دیوار ابھی روتا ہے

یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کاکوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

— غلام محمد قاصر