7 اشعار

یاد اشکوں میں بہا دی ہم نے

Yaad ashkon mein baha di hum ne

یاد اشکوں میں بہا دی ہم نےآ کہ ہر بات بھلا دی ہم نے

گلشن دل سے گزرنے کے لیےغم کو رفتار صبا دی ہم نے

اب اسی آگ میں جلتے ہیں جسےاپنے دامن سے ہوا دی ہم نے

دن اندھیروں کی طلب میں گزرارات کو شمع جلا دی ہم نے

رہگزر بجتی ہے پائل کی طرحکس کی آہٹ کو صدا دی ہم نے

قصر معنی کے مکیں تھے پھر بھیطے نہ کی لفظ کی وادی ہم نے

غم کی تشریح بہت مشکل تھیاپنی تصویر دکھا دی ہم نے

— غلام محمد قاصر