6 اشعار

تضاد

Tazaad

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہے

یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے

یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیادحسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے

یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گمحسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھرحسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے

یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سےحسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے

— غلام محمد قاصر