7 اشعار

ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیں

Hum ne to be-shumar bahane banaye hain

ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیںکہتا ہے دل کہ بت بھی خدا نے بنائے ہیں

لے لے کے تیرا نام ان آنکھوں نے رات بھرتسبیح انتظار کے دانے بنائے ہیں

ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنا دیاتم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں

وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاسہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں

بھونرے انہی پہ چل کے کریں گے طواف گلجو دائرے چمن میں صبا نے بنائے ہیں

ہم تو وہاں پہنچ نہیں سکتے تمام عمرآنکھوں نے اتنی دور ٹھکانے بنائے ہیں

آج اس بدن پہ بھی نظر آئے طلب کے داغدیوار پر بھی نقش وفا نے بنائے ہیں

— غلام محمد قاصر