5 اشعار

اکیلا دن ہے کوئی اور نہ تنہا رات ہوتی ہے

Akela din hai koi aur na tanha raat hoti hai

اکیلا دن ہے کوئی اور نہ تنہا رات ہوتی ہےمیں جس پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے

تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیںغلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے

سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوتمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے

کہیں چڑیاں چہکتی ہیں کہیں کلیاں چٹکتی ہیںمگر میرے مکاں سے آسماں تک رات ہوتی ہے

کسے آباد سمجھوں کس کا شہر آشوب لکھوں میںجہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے

— غلام محمد قاصر