7 اشعار

داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرف

dad bhi fitna bedad bhi qatil ki taraf

داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرفبے گناہی کے سوا کون تھا بسمل کی طرف

منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورتہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف

مقتل ناز سے گزرے تو گزرنے والےپھول کچھ پھینک گئے دامن قاتل کی طرف

جھلملاتے نہیں بے وجہ تو محفل کے چراغاک نظر دیکھ تو لو صاحب محفل کی طرف

کتنی بے کیف ہیں ساحل کی فضائیں یا ربکوئی طوفان کا رخ موڑ دے ساحل کی طرف

یاد آتا ہے وہ انداز تجاہل اے دوستبات اوروں سے مگر روئے سخن دل کی طرف

ذکر آیا تھا حیات ابدی کا تاباںؔلوگ کیوں تکنے لگے کوچۂ قاتل کی طرف

— غلام ربانی تاباں