7 اشعار

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو

hujum-e-dard ka itna baDhe asar gum ho

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہوملے وہ رات کہ جس رات کی سحر گم ہو

مزا تو جب ہے کہ آوارگان شوق کے ساتھغبار بن کے چلے اور رہ گزر گم ہو

ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئیالٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو

چلے ہیں ہم بھی چراغ نظر جلائے ہوئےیہ روشنی بھی کہیں راہ میں اگر گم ہو

تلاش دوست ہے دل کو مگر خدا جانےکہاں کہاں یہ بھٹکتا پھرے کدھر گم ہو

چمن چمن ہیں وہ نشو و نما کے ہنگامےگلوں کو ڈھونڈنے جائے تو خود نظر گم ہو

سخن کی جان ہے حسن بیاں مگر تاباںؔنہ یوں کہ لفظ ہی رہ جائیں فکر تر گم ہو

— غلام ربانی تاباں