7 اشعار

ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت

Ek tum hi nahin duniya mein jafaakaar bahut

ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہتدل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت

ہائے کیا چیز ہے محرومی و غم کا رشتہمل گئے زیست کے ہر موڑ پہ غم خوار بہت

یاد احباب کی خوشبو سے مہکتی شامیںکچھ کہو ہوتی ہیں کمبخت دل آزار بہت

عشق آوارہ کہاں قید در و بام کہاںبے نواؤں کے لیے سایۂ دیوار بہت

دل کی رفتار بدل جاتی تھی آواز کے ساتھیاد آتا ہے وہ پیرایۂ گفتار بہت

ایک دن وقت بتائے گا جنوں کی عظمتیوں تو ہم لوگ ہیں رسوا سر بازار بہت

وہ کشاکش ہے کہ جینا بھی ہے دوبھر تاباںؔعشق معصوم بہت حسن فسوں کار بہت

— غلام ربانی تاباں