7 اشعار

زندگی دل پہ عجب سحر سا کرتی جائے

Zindagi dil pe ajab sehar sa karti jaye

زندگی دل پہ عجب سحر سا کرتی جائےاک جگہ ٹھہری لگے اور گزرتی جائے

آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہیبھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے

دیکھتے دیکھتے دھندلا گئے منظر سارےتیری زلفوں کی طرح شام بکھرتی جائے

بات کا راز کھلے بات کا انداز کھلےتیرے ہونٹوں سے چلے دل میں اترتی جائے

رفتہ رفتہ کسی گم نام لہو کی تحریرقاتل شہر کے دامن پہ ابھرتی جائے

ہو کے برباد چلے صحن چمن سے نکہتدشت و صحرا کی مگر جھولیاں بھرتی جائے

میں نے کب دعویٰ الہام کیا ہے تاباںؔلکھ دیا کرتا ہوں جو دل پہ گزرتی جائے

— غلام ربانی تاباں