5 اشعار

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے

gulon ke sath ajal ke payam bhi aaye

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئےبہار آئی تو گلشن میں دام بھی آئے

ہمیں نہ کر سکے تجدید آرزو ورنہہزار بار کسی کے پیام بھی آئے

چلا نہ کام اگرچہ بہ زعم راہبریجناب خضر علیہ السلام بھی آئے

جو تشنہ کام ازل تھے وہ تشنہ کام رہےہزار دور میں مینا و جام بھی آئے

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔرہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے

— غلام ربانی تاباں