8 اشعار

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں

Har sitam lutf hai dil khugar-e-azaaar kahan

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاںسچ کہا تم نے مجھے غم سے سروکار کہاں

دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیںکیوں بھٹکتے ہو یہاں سایۂ دیوار کہاں

بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میراکیسے اذکار مجھے فرصت افکار کہاں

کیوں ترے دور میں محروم سزا ہوں کہ مجھےجرم پر ناز سہی جرم سے انکار کہاں

رہ رو شوق ہے بیگانۂ منزل ورنہکوچۂ دار کہاں کوچۂ دل دار کہاں

سوچتے کیا ہو جلاتے رہو زخموں کے چراغدیکھتے کیا ہو ابھی صبح کے آثار کہاں

تم کو چاہا تھا مگر تم بھی وفا دوست نہیںدل پہ تکیہ تھا مگر دل بھی وفادار کہاں

یوں تو ہر گام پہ غم خوار ملے ہیں تاباںؔجو مرے غم کو سمجھ پائے وہ غم خوار کہاں

— غلام ربانی تاباں