7 اشعار

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت

Basti mein kami kis cheez ki hai patthar bhi bahut sheeshe bhi bahut

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہتاس مہر و جفا کی نگری سے دل کے ہیں مگر رشتے بھی بہت

اب کون بتائے وحشت میں کیا کھونا ہے کیا پایا ہےہاتھوں کا ہوا شہرہ بھی بہت دامن نے سہے صدمے بھی بہت

اک جہد و طلب کے راہی پر بے راہروی کی تہمت کیوںسمتوں کا فسوں جب ٹوٹ گیا آوارہ ہوئے رستے بھی بہت

موسم کی ہوائیں گلشن میں جادو کا عمل کر جاتی ہیںروداد بہاراں کیا کہئے شبنم بھی بہت شعلے بھی بہت

ہے یوں کہ طرب کے ساماں بھی ارزاں ہیں جنوں کی راہوں میںتلووں کے لیے چھالے بھی بہت چھالوں کے لیے کانٹے بھی بہت

کہتے ہیں جسے جینے کا ہنر آسان بھی ہے دشوار بھی ہےخوابوں سے ملی تسکیں بھی بہت خوابوں کے اڑے پرزے بھی بہت

رسوائی کہ شہرت کچھ جانو حرمت کہ ملامت کچھ سمجھوتاباںؔ ہوں کسی عنوان سہی ہوتے ہیں مرے چرچے بھی بہت

— غلام ربانی تاباں